Monday, 30 January 2012

meri dastras mein thi zindagi




میری دسترس میں تھی زندگی
میں نے تیری راہ پہ ڈال دی

مجھے ہر حسین و جمیل پر
تیرے خال و خد کا تھا شائبہ

تجھے ڈھونڈ لائے گا ایک دن
مجھے اعتماد تھا درد پر

تیری جستجو تو ہے جستجو
میرے حوصلے کا سوال ہے

یہی ایک دعا ہے کہ اے خدا
مجھے اپنے غم میں شریک ک

woh kahin rasta bhatak jay yeah to mumkin na tha magar pher bhi


وہ کہیں راستہ بھٹک جائے یہ تو ممکن نہ تھا مگر پھر بھی
تم چراغوں کی بات کرتے ہو ہم نے دیوار و در جلا رکھے

تم سمجھتے ہو آفتاب ڈھلے شام دیوار و در پہ ڈھلتی ہے
مجھ سے پوچھو تو انتظار کا غم دل کے آنگن میں پھیل جاتا ہے

ایک بے چینی روز پوچھتی ہے کوئی دست شفا بھی ہے کہ نہیں
ہم اسے یونہی بے تکی ہنس ہنس، باتوں باتوں میں ٹال دیتے ہیں

ہم تیری رہگزر تھے اور جاناں تیرے انتظار میں تھے
سوچتے تھے کہ راستوں کے بھی اپنے اپنے نصیب ہوتے ہیں


اس ہماری زمیں کے سپنے پر خبر کیا خبر کیسے کیسے جنگل تھے
وحشتیں اس طرح ہوئی آباد بستیاں کھا گئیں درختوں کو

ankhooun ki kasam tujhy hum nay dil mein basya

َ


آنکھوں کی قسم تجھے ہم نے دل میں بسایا
راتوں کی قسم ہم نے عبادت تیری کی ہے

اظہار کی آذادی سمجھتے رہے ہم تو
بولے تو زباں کیل کے رکھ دی گئی اپنی

پیڑوں پہ سجانے لگانے انسان ثقافت
سڑکوں پہ اتر آئے ہیں حیران پرندے

آپس میں بہت گہرا ہے ان تینوں کا رشتہ
جب موت کراہے گی تو تڑپیں گے دل و جاں

ویران گزر گاہوں کا عالم تو ذرا دیکھ
تیروں کی طرح کیسے اتر جاتی ہیں دل میں

kabhi safar to kabhi lay gaya mujh say



کبھی سفر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے
تمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے

مجھے خبر نہ ہوئی اور زمانہ جاتے ہوئے

نظر بچا کے تیرا نام لے گیا مجھ سے

اسے زیادہ ضرورت تھی گھر بسانے کی

وہ آ کے میرے در و بام لے گیا مجھ سے

بھلا کہاں کوئی جز اس کے ملنے والا تھا

بس ایک جرات ناکام لے گیا مجھ سے

بس ایک لمحے کے سچ جھوٹ کے عوض فرحت

تمام عمر کا الزام لے گیا مجھ سے

tars gay nain jiya beechain rehay




ترس گئے نین، جیا بے چین رہے

سن سن اپنے بین، جیا بے چین رہے


اس سے جو خاموشی سی چھائی ہے

ہم دونوں کے مابین، جیا بے چین رہے


ساری ساری شام تمہاری راہ تکے

ساری ساری رین، جیا بے چین رہے


دل کی تاریں ملی ہوئی ہیں آپس میں

سانول ہے بے چین، جیا بے چین رہے


آدھا آدھا چاند کہاں راس آتا ہے

دیکھ دیکھ قوسین، جیا بے چین رہے

yeah joo ansooun mein gharoor hy


یہ جو آنسوؤں میں غرور ہے
یہ محبتوں کا فتور ہے

تیرا آسماں قریب تھا
میرا آسماں تو دور تھا

مجھے کہہ رہی تھی وہ عزم سے
مجھے تم کو پانا ضرور ہے

یہ میری شبہیہ نہیں، سنو
یہ تو میری آنکھوں کا نور ہے

تیرے عشق کا تیری روح کا
میری وحشتوں میں ظہور ہے

aik yehi roshni imkaan mein hay

َ


اک یہی روشنی امکان میں ہے
تو ابھی تک دل ویران میں ہے

شور برپا ہے تیری یادوں کا

رونق ہجر بیابان میں ہے

پیار اور زندگی سے لگتا ہے

کوئی زندہ دل بے جان میں ہے

آج بھی تیرے بدن کی خوشبو

تیرے بھیجے ہوئے گلدان میں ہے

زندگی بھی ہے میری آنکھوں میں

موت بھی دیدہ حیران میں ہے

دل ابھی نکلا نہیں سینے سے

ایک قیدی ابھی زندان میں ہے

mein sooch sakta nahi tha kissi haseen k saath

َ


میں سوچ سکتا نہیں تھا کسی حسین کے ساتھ
وہ لوٹ آئے گا اور اس قدر یقین کے ساتھ

اجڑ کے جائیں تو سائے کئی سکونت کے

مکان چھوڑ دیا کرتے ہیں مکین کے ساتھ

تو جاؤ شہر میں لاکھوں گنوار پھرتے ہیں

اگر پسند نہیں رہنا مجھ ذہین کے ساتھ

یہ آگ پانی ہوا مجھ کو ضائع کر دیں گے

اسی لیے تو میں وابستہ ہوں زمین کے ساتھ

بس اب تمام حدیں صبر کی تمام ہوئیں

بہت گزارہ کیا میں نے تجھ لعین کے ساتھ

میں واعظوں کی کسی بات کا اثر کیا لوں

فریب کرتے ہو جو آپ اپنے دین کے ساتھ

یہ کیسے رفاقت میں آ گیا ہوں میں

لپٹ رہے ہیں کئی سانپ آستین کے ساتھ

sard sa haath milany wala




سرد سا ہاتھ ملانے والا
تو وہی ہے ناں زمانے والا

تم مجھے یاد رکھو گے کیسے
جب خدا بھی ہو بھلانے والا

دکھ کی مزدوری مجھے کرنا ہے
ہے کوئی ہاتھ بٹانے والا

رات آگے نہیں جانے والی
ہجر بھی شور مچانے والا

جانے اب شہر رہے یا نہ رہے
میں تو اک شخص ہوں جانے والا

شاید اک غم ہی فقط ہوتا ہے
عمر بھر ساتھ نبھانے والا

اب زمانہ ہی نہیں ہے فرحت
دیپ سے دیپ جلانے والا

meray dard ki dastan

َ


میرے بعد درد کی داستاں
تجھے کون آ کے سنائے گا

مجھے راستے میں خبر ملی
وہ تو شہر ہی سے چلا گیا

میری زندگانی کے خار و خس
کوئی جاتے جاتے جلا گیا

میرے رتجگوں کو خبر کرو
مجھے نیند آئی ہے دیکھنے

میں تو اپنے آپ میں ہی نہیں
مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو

بڑا سخت ہے تیرا راستہ
مجھے میری راہ پہ موڑ دے

تجھے کیسا لگتا ہے دن ڈھلے
کسی دکھ کا سینے میں ٹوٹنا